پاکستان کےصوبہ پنجاب کے بعد صوبہ سندھ میں بھی ڈینگی بخار پھیلنا شروع ہوگیا ہے جس کا سب سے زیادہ زور ابھی تک پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہے۔
صوبہ سندھ میں اب تک دو سو پچاس افراد میں ڈینگی بخار کی تشخیص ہوچکی ہے جس میں سے دو سو سترہ افراد صرف کراچی میں ہیں ۔
ادھر محکمہ صحت پنجاب کے حکام کے مطابق صوبے میں ڈینگی کے مزید پانچ سو سے زیادہ مریضوں سامنے آئے ہیں اور مریضوں کی تعداد سات ہزار تک جا پہنچی ہے۔ سرکاری طورپر کہا جا رہا ہے کہ ڈینگی کے وائرس سے تیس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں لیکن غیرسرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان اور مریضوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
سندھ میں ڈینگی سرویلنس سیل کے انچارج ڈاکٹر شکیل ملک نے اس بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ سندھ کے گیارہ اضلاع میں تینتیس افراد میں ڈینگی کے مرض کی تشخیص ہوچکی ہے،
انہوں نے بتایا کہ یہ اعدادو شمار سرکاری اور نجی دونوں ہسپتالوں سے حاصل کرکے مرتب کیے گئے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس مرض کی شدت اندرون سندھ کے اضلاع میں نہیں ہے تاہم حکومت احتیاطی تدابیر کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تمام اضلاع میں احکامات جاری کردیے ہیں اور جس بھی شخص میں ڈینگی کے مرض کی تشخیص ہوگی اسے علیحدہ سے ایک جالی میں رکھا جائے گا جب تک اسے بخار رہے گا کیونکہ اگر اس مریض کو کسی مچھر نے کاٹا تو اس سے دوسرے افراد میں بھی یہ مرض پھیل جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت تمام اضلاع میں ضلعی حکومتوں کو ڈینگی ٹیسٹنگ کٹس فراہم کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ضلعی حکومتیں مچھر مار سپرے بھی کر رہی ہیں اور جس گھر میں ڈینگی کا مریض پایا گیا تو اس کے آس پاس کے علاقے میں بھی خصوصیت سے اسپرے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی وی اور مقامی اخبارات میں اشہارات شائع کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام میں اس مرض سے متعلق آگاہی پیدا ہوسکے۔ تاہم ڈاکٹر شکیل کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی۔
’ہم نے اشتہارات کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا کہ وہ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ لوگ جب تک خود احتیاط نہیں کریں گے تب تک حکومت کچھ نہیں کرسکتی ہے۔‘





0 comments:
Post a Comment